• یکشنبه، ۳۰ شهریور ۱۳۹۹
  • الأحد، 2 صفر 1442
  • Sunday, 20 September 2020

سوال: کیا دو نمازوں کا اکٹها پڑھنا قرآن اور سنت کی  مخالفت ہے؟

سوال: کیا دو نمازوں کا اکٹها پڑھنا قرآن اور سنت کی  مخالفت ہے؟

جواب: نماز ایک ایسی عبادت ہے جسے دین اسلام نے بہت اهمیت دی ہے. جیسا که تمام واجبات کیلئے شروط او مقدمات ہوتے ہیں، نماز کیلئے بھی شروط ہیں جن میں سے ایک مسئله پنج نمازوں کے اوقات کا ہے. قرآن کریم سوره اسری 78 نمبر آیت صرف ایک ہی ایت ہے جو پانچ نمازوں کا وقت بتاتی ہے اور فرماتا ہے:
(أَقِمِ الصَّلاةَ لِدُلُوكِ الشَّمْسِ إِلى‏ غَسَقِ اللَّيْلِ وَ قُرْآنَ الْفَجْرِ إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كانَ مَشْهُوداً)؛ “نماز کو قائم کریں سورج کے ڈھلنے سے لے کر رات کی تاریکی تک اور فجر کی نماز قائم کرو بی شک نماز فجر مشهود ہے”
عربی کی لغت میں “دلوک” کے دو معنی کئے گئے ہیں: ایک زوال اور ڈهلنے کے معنی میں اور ایک غروب کے معنی میں. ” فخر رازی” اس بارے میں لکھتے ہے: دلوك شمس، زوال کے معنی میں ہے ( یہ کہ ظهر کے وقت شاخص کا سایه کمی کی آخری درجه تک پہنچ جائے) اور اکثر صحابه اور تابعین کا یہی قول ہے {1}
اور اس طرح لغت میں عسق کیلئے بھی دو معنی ذکر ہوئےہیں: شام اور رات
حضرت امام باقر اور حضرت امام صادق علیهما السلام سے اسی آیت کی تفسر میں ایک روایت نقل کرتے ہے که آپ نے فرمایا «دلوك شمس» کا معنی ظهر کی ابتداء اور«غسق اللیل» کا معنی آدهی رات ہے اور “قرآن الفجر” سے مراد نماز فجر ہےاور یہ آیت بھی نماز کے اوقات بیان کرنا چاهتی ہے {2}
جب «دلوك شمس» اول ظهر اور «غسق اللیل» آدهی رات کو کہتے ہیں اور آیت بھی نماز کے اوقات کو بیان کر رہی ہے “اقم الصلوة…” ظهر ، عصر ،مغرب اور عشاء کا وقت بتاتا ہے اور “قرآن الفجر” فجر کی نماز کا وقت بتاتا ہے.
آیت کی اطلاق کا تقاضا یه ہے که ظهر ، عصر ، مغرب اور عشاء کی نمازوں کا وقت ظهر سے لیکر آدهی رات تک ہو؛ یعنی اس آیت کو مدنظر رکهتے ہوئے یہ کہہ سکتے ہیں که ظهر عصر ، مغرب اور عشاء کا وقت ظهر سے لیکر آدھی رات تک ہے؛ جیسا که فخر رازی اپنے تفسیر میں بهی اس کی طرف اشاره کیا ہے. {3}
لیکن پھر بھی سنت میں اس آیت کے اطلاق کو ایک خاص زمانے کے ساتھ مقید کیا ہے.
یہاں کچھ معتبر روایات ہے جو عصر اور عشاء کی نمازوں کا آخری وقت مشخص کرتی ہیں. بطور مثال “عبیدبن زراره” کہتے ہے: میں نے حضرت امام صادق علیه السلام سے ظهر اور عصر کی نمازوں کے اوقات کے بارے میں پوچھا، تو حضرت نے فرمایا: جب سورج زوال کو پہونچے تو اس وقت ظهر اور عصر کی نمازوں کا وقت شروع ہوتا ہے صرف یہ که نماز ظهر کا وقت ،عصر کی نماز سے پہلے ہے اور باقی دونوں نمازوں کا وقت سورج کے غروب تک ہے {4}
پس ثابت ہوا که دو نمازوں کا ساتھ پڑھنا نه یہ که حکم قرآن کے مخالف نہیں ہے بلکه آیت(اقم الصلاة لدلوک الشمس الی غسق اللیل) نمازوں کے دو وقت بتاتی ہے؛ اگرچه یہ اطلاق سنت قطعی اور معصوم کے بیان سے مقید ہوا ہے اور یومیه نمازوں کے اوقات کا اتمام بھی معین ہوا ہے جو که یہ چیز دو نمازوں کے اکٹھاپڑھنے کے ساتھ کوئی اختلاف نہیں رکھتی.
لیکن اس مسئلے میں عام اهل سنت کا یہ خیال ہے که دو نمازوں کا ایک ساتھ پڑھنا غیر شرعی کام ہے جس پر سنت سے کوئی دلیل نہیں ہے؟ حالانکه اهل سنت کی حدیثی کتابیں اس بات کے مخالف ہے.
اهل سنت کے فقهی اور حدیثی کتابوں کو مدنظر رکھتے ہوئے تقریباً تیس روایتیں ایسی ملتی ہے که ظهر اور عصر مغرب اور عشاء کو بغیر سفر، بارش اور خوف ایک ساتھ پڑه سکتے ہیں.
یہ روایتیں عام طور پر پنج راویوں نے نقل فرمائے ہیں “ابن عباس” ، “جابربن عبدالله انصاری” ، “ابو ایوب انصاری” ، “عبدالله بن عمر” اور “ابوهریره” ہم یہاں صرف چار راوی ذکر کرنے پر اکتفاء کرتے ہیں:
1. بخاری نے اپنی کتاب میں ایک خاص باب «بابُ تأخيرِ الظُّهر الي العَصْرِ» کے نام سے تحریر کیا ہے جو که خود یہ موضوع اس بات کی گواه ہے که انسان نماز ظهر کو اتنا ٹھال سکتا ہے که دونوں نمازوں کو عصر کے وقت پڑھ سکے. پهر بخاری اس باب میں روایت بهی نقل کرتا ہے: «إِنَّ النَّبِيّ ـ صلّي اللّه عليه[وآله]وسلّم ـ صَلّي بِالْمَدينَةِ سَبْعاً وَثَمانِياً، الظُّهرَ وَالْعَصْرَ، وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشاءَ»؛ {5}
آنحضرت (صلی الله علیه و آله وسلم) نے سات رکعت (مغرب اور عشاء)کی اور آٹھ رکعت(ظهر اور عصر کی) مدینه میی ساتھ پڑه لئے.
2. بخاری «ابو امامة» سے روایت نقل کرتا ہے: «صَلَّيْنَا مَعَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الظُّهْرَ، ثُمَّ خَرَجْنَا حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، فَوَجَدْنَاهُ يُصَلِّي الْعَصْرَ، فَقُلْتُ: يَا عَمِّ مَا هَذِهِ الصَّلَاةُ الَّتِي صَلَّيْتَ؟ قَالَ: الْعَصْرُ، وَ هَذِهِ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ(صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآله وسَلَّمَ) الَّتِي كُنَّا نُصَلِّي مَعَه‏»؛ «ابو امامة» کہتے ہے ہم نے ظہر کی نماز «عمر بن عبدالعزیز» کے ساتھ پڑھی، پھر ہم مسجد سے نکل گئے اور “انس بن مالک” سے ملے جو که نماز عصر پڑھ رہے تھے،میں نے (تعجب) سے اسکو کہا: چچا یہ کونسی نماز تهی جو آپ پڑھ رہے تهے؟ اس نے جواب میں کہا نماز عصر پڑھ رہا تها اور یہ وہی نماز ہے جو آنحضرت کے ساتھ ہم پڑھ رہے تھے.
3. مسلم اور احمد بن حنبل، عبدالله بن شقیق سے نقل کرتے ہیں: «خَطَبنا ابنُ عَبّاس يَوماً بَعْدَ الْعَصْرِ حَتّي غَرُبَتِ الشَّمْسُ وَبَدَتَ النُّجومُ وَعلّق النّاسَ يُنادونهُ الصَّلاةَ وَفي الْقَومِ رَجُلٌ مِنْ بَني تميم فَجَعَلَ يَقُول: الصَّلاةَ الصّلاةَ: قالَ: فَغَضِبَ قَال أَتُعلّمُني بالسّنّة؟ شهدتُ رَسُولَ اللّهِ صلّي اللّهُ عَلَيه[وآله]وسَلّم جَمَعَ بَيْنَ الظُّهرِ وَالْعَصرِ، وَالْمَغْرِب وَالعِشاءِ. قَالَ عَبْدُ اللّه فَوَجدتُ في نَفْسي مِنْ ذلِکَ شَيْئاً فَلَقيتُ أَبا هُريرةَ فَسألتهُ فوافقَه؛ {6}
ابن عباس عصر کی نماز کے بعد ہمیں وعظ کر رہے تهے که سورج غروب ہوا اور ستارے نظر آنے لگے اور لوگوں نے نماز کیلئے آوازیں دینا شروع کئے اسی دوران بنی تمیم قبیلے کا ایک آدمی نماز کا کلمه تکرار کر رہے تهے، (که نماز کا وقت ہوگیا ہے تقریر بند کرلے) توابن عباس کو عضه آیا او کہا: کیا تم مجھے پیغمبر کی سنت سمجها رہے ہو؟ میں خود گواه ہوں که آنحضرت صلی الله علیه و آله وسلم ظهر اور عصر ، مغرب اور عشاء کی نمازیں ایک ساتھ جمع کرکے پڑھی”. عبدالله کا کہنا ہے: مجھے اس مسئلے میں شک ہوا لہذا جب میں ابوهریره سے ملا تو اس سے میں نے پوچها تو اس نے بهی ابن عباس کی باتوں کی تائید کی. اس حدیث میں دو صحابه عبدالله بن عباس اور ابوهریره اس بات کی گواهی دیتے ہیں که آنحضرت صلی الله علیه و آله وسلم ظهر اور عصر، مغرب اور عشاء کی نمازیں ساتھ پڑه رہے تھے اور ابن عباس نے بهی آنحضرت(ص) کی پیروی کرتے ہوئے ایسا کیا.
4. مسلم بن حجاج، ابن عباس سے روایت نقل کرتا ہے: « صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ الظُّهْرَ وَ الْعَصْرَ جَمِيعًا بِالْمَدِينَةِ. فِي غَيْرِ خَوْفٍ وَ لَا سَفَرٍ. قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ: فَسَأَلْتُ سَعِيدًا: لِمَ فَعَلَ ذَلِكَ؟ فَقَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ كَمَا سَأَلْتَنِي. فَقَالَ: أَرَادَ أَنْ لَا يُحْرِجَ‏ أَحَدًا مِنْ أُمَّتِهِ‏»؛ {7} آنحضرت صلی الله علیه و آله وسلم نے مدینه منوره میں بغیر کسی دشمن کے خوف اور هراس اور بغیر سفر کے ظهر اور عصر کی نمازوں کو ساتھ بجا لایا”. ابن عباس نے آنحضرت کے اس عمل کے مقصد کو بیان کرتے ہوئے فرمایا: آنحضرت(ص) چاہتے تھے کہ امت میں کوئی بھی شخص تکلیف میں نه پڑ جائے.
ایک اور نکته جو قابل اهمیت ہے یہ که تمام مذاهب اسلامیه کے پیروکار “عرفات” نویں ذوالحجه” کو عصر کی نماز ظہر کی نماز کے فوراً بعد پڑھتے ہیں، اور “مزدلفه” میں مغرب کی نماز کو عشاء کی نماز کے ساتھ پڑھتے ہیں. اس عمل سے یه بات سمجھ میں آتی ہے که اگرچہ وه نماز جو ظهر کے فوراً بعد پڑهی جائے اس کو نماز عصر نہیں کہہ سکتے لیکن شارع مقدس کی نظر سے اس عمل کی رعایت مکلفین پر لازم نہیں ہے بلکه اس عمل میں مکلفین کو اجازت دی گئی ہے کیونکه خود نبی اکرم صلی الله علیه و آله وسلم نے مغرب اور عشاء کی نمازوں کو ایک ساتھ پڑھ چکے ہیں اگر عقلی معیار کے مطابق بات کرنی ہو تو یہ کہنا صحیح ہوگا که صاحب شریعت نے بهی نماز پڑهنے میں کوتاهی کی ہے اور اس کو اپنے وقت میں نہیں پڑهی ہیں حالانکه اس بات کی غلطی کسی پر پوشیده نہیں ہے.
اور اسی طرح شیعه مکتب کی فقهی روایات میں وه روایتیں جو دو نمازوں کو ایک ساتھ پڑھنے کے بارے میں ہیں وه یا تو آنحضرت صلی الله علیه و آله وسلم کے عمل سے حکایت کرتی ہیں یا امام معصوم کے عمل سے که معصوم نے دو نمازوں کو ساتھ پڑھ چکے ہیں اور بعض اوقات امام علیه السلام نے کسی کے سوال کے جواب میں فرمایا ہیں.
علامه کلینی(ره) نے اصول کافی میں اسی عنوان سے ایک باب«بَابُ الْجَمْعِ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ‏» میں چھ روایت اس بارے میں نقل فرماتے ہیں. پہلی روایت جو که زراره حضرت امام صادق علیه السلام سے نقل فرماتے ہیں کہتا ہے که آنحضرت صلی الله علیه و آله وسلم نے ظهر اور عصر کی نماز کو ظهر شرعی کے بعد جماعت کے ساتھ بغیر کسی عذر کے پڑهی اور اسی طرح مغرب اور عشاء کی نماز کو اس سے پہلے که آسمان کی سرخی ختم ہوجائے لوگوں کے ساتھ باجماعت پڑهی بغیر کسی عذر کے آنحضرت (ص) کا مقصد یہ تها که لوگوں کو نماز یومیه میں وقت کی گنجایش سمجها ئے. {8}
مرحوم علامه شیخ طوسی(ره)اپنی کتاب “تهذیب الاحکام” المواقیت باب میں چار روایت اس بارے میں نقل فرمائے ہیں.
ایک روایت جو که “صفوان جمال” نقل کرتے ہے که حضرت امام صادق علیه السلام کی امامت میں ہم نے ظہر اور عصر کی نماز کو زوال کے وقت ایک آذان او دو اقاموں کے ساتھ پڑھی. نماز کے بعد امام نے ہم سے فرمایا: میں رفع حاجت کیلئے جاتا ہوں تم نافله پڑھ لو.{9}
اسی طرح فقهی جامع کتاب”وسائل الشیعه” میں مرحوم شیخ حر عاملی “جواز الجمع بین الصلاتین لغیر عذر” کے عنوان سے گیاره روایت اسی موضوع کے بارے میں نقل فرما چکے ہے.
ایک روایت میں “اسحاق بن عمار” کہتے ہے که میں نے حضرت امام صادق علیه السلام سے پوچها: کیاہم مغرب اور عشاء کی نمازوں کو بغیر کسی سفر ، عذر اور مشرقی سرخی غائب ہونے سے پہلے ساتھ پڑھ سکتے ہیں؟ حضرت نے فرمایا جی کوئی اشکال نہیں.{10}
ان تمام مطالب سے یه بات واضح ہوگی که دو نمازوں کو اکٹھا اور ساتھ پڑھنا کسی طرح بهی قرآن اور سنت کے مخالف نہیں ہے، بلکہ کئی جگہوں پر آنحضرت(صلی الله علیه وآله و سلم) اور آئمه (علیهم السلام) دونوں نمازوں کو ایک ساتھ پڑھ چکے ہیں اور اسکا مقصد مکلفیں کو تکلیف میں نہ ڈالنا بتایا ہیں.

حواله جات

1. مفاتیح الغیب، الفخر الرازی، ج21،ص383: «و القول الثاني: أن دلوك الشمس هو زوالها عن كبد السماء و هو اختيار الأكثرين من الصحابة و التابعين…».
2. . لسان العرب، ابن منظور، ج10، ص69: «غسق الليل ظلمته و قيل: اول ظلمته و قيل غسقه اذا غاب الشفق و قال الفراء فى قوله تعالى الى غسق الليل هو اول ظلمته، الا خفش: غسق الليل ظلمته؛غسق ليل، کی معنی رات کی تاریکی ہے اور کہا گیا ہے که غسق، کی معنی رات کا پہلا حصه یا مشرق سرخی غائب ہونے کو کہتے ہیں فراء نے کہا ہے که غسق لیل سے مراد رات کا پہلا حصه ہے لیکن اخفش کہتے ہے که غسق سے مراد رات کی تاریکی ہے ».
3. تفسیر نور الثقلین، الحویزی، ج2، ص202: «محمد بن مسلم عن ابى جعفر و ابى عبداللّه‏(عليهم‏السلام) فى قوله تعالى «اقم الصلاة لدلوك الشمس الى غسق الليل» قال: جمعت الصلوات كلهن و دلوك الشمس زوالها و غسق الليل انتصافه… و قرآن الفجر قال: صلوة الصبح».
4. . مفاتیح الغیب، الفخر الرازی، ج21، ص384.
5. وسائل الشیعة، الحر العاملی، ج4، ص126: «عن عبيد بن زرارة قال: سألت أبا عبد الله(عليه السلام) عن وقت الظهر والعصر ، فقال: إذا زالت الشمس دخل وقت الظهر والعصر جميعا، إلا أن هذه قبل هذه، ثم أنت في وقت منهما جميعا حتى تغيب الشمس» .
6. صحیح البخاری، باب تاخیر الظهر الی العصر، ح518، دارابن کثیر، بیروت.
7. وہی، باب وقت العصر، ح524.
8. صحیح مسلم، باب الْجَمْعِ بَيْنَ الصَّلاَتَيْنِ فِى الْحَضَرِ، ج2، ص152، ح1670، دارالجیل؛ مسند احمد، ح2269، موسسة قرطبة، القاهرة. «تعليق شعيب الأرنؤوط : إسناده صحيح على شرط مسلم رجاله ثقات رجال الشيخين غير عبدالله بن شقيق فمن رجال مسلم».
9. صحیح مسلم، باب الجمع بين الصلاتين في الحضر، ج2، 151، ح1663.
10. الكافي(الطبعة القديمة)، الکلینی،‌ج3، ص278.
11. وہی ، ح1: « مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُكَيْرٍ عَنْ زُرَارَةَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ(علیه السلام) قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ(صلی الله علیه وآله) بِالنَّاسِ الظُّهْرَ وَ الْعَصْرَ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ فِي جَمَاعَةٍ مِنْ غَيْرِ عِلَّةٍ وَ صَلَّى بِهِمُ الْمَغْرِبَ وَ الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ قَبْلَ سُقُوطِ الشَّفَقِ مِنْ غَيْرِ عِلَّةٍ فِي جَمَاعَةٍ وَ إِنَّمَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ(صلی الله علیه وآله) لِيَتَّسِعَ الْوَقْتُ عَلَى أُمَّتِهِ‏».
12. تهذیب الاحکام، الطوسی،‌ ج2، ص282، ح85: « …عن صفوان الجمال قال : صلى بنا أبو عبد الله( عليه السلام) الظهر والعصر عندما زالت الشمس بأذان وإقامتين ، وقال: إني على حاجة فتنفلوا».
13. وسائل الشیعه، الحر العاملی،ج4، ص223: «سألت أبا عبد الله (عليه السلام) نجمع بين المغرب والعشاء في الحضر قبل أن يغيب الشفق من غير علة؟ قال : لا بأس».

منبع: موسسه مذاهب اسلامی

Fikr bildirish

Email manzilingiz chop etilmaydi. Majburiy bandlar * bilan belgilangan

*

code