• یکشنبه، ۳۰ شهریور ۱۳۹۹
  • الأحد، 2 صفر 1442
  • Sunday, 20 September 2020

سوال: کیا متعه کا حکم قرآن اور سنت کے ذریعه سے نسخ ہوچکا ہے؟

سوال: کیا متعه کا حکم قرآن اور سنت کے ذریعه سے نسخ ہوچکا ہے؟

جواب: سب سے پہلے اس بات کی طرف متوجه ہونا ضروری ہے که متعه کے حلال ہونے کے بارے میں مسلمانوں کے درمیان کسی قسم کا اختلاف نہیں ہے؛ اختلاف اس بات پر ہے، که کیا یہ اللهی حکم کچھ عرصہ بعد منسوخ ہوچکا ہے یا نہیں؟
اهل سنت کہتے ہیں که یه حکم اسلام میں تھا اور بعد میں نسخ ہوا ہے، اور اس حکم کے نسخ ہونے کیلئے کچھ آیات اور روایات بطور دلیل لاتے ہیں جس کو ہم مختصر طور پر پیش کرتے ہیں:
الف) قرآن کریم میں متعه کے نسخ ہونے کا فرضیه
1. کچھ علماء: وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حافِظُونَ؛ إِلَّا عَلى‏ أَزْواجِهِمْ أَوْ ما مَلَكَتْ أَيْمانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ؛ فَمَنِ ابْتَغى‏ وَراءَ ذلِكَ فَأُولئِكَ هُمُ العادُونَ»؛[1] آیت کو متعه کے جائز ہونے والی آیت کا ناسخ سمجھتے ہیں، اس صورت میں که اس آیت میں عورتوں کے ساتھ رابطه کے دو شق موجود ہے، ایک دائمی نکاح اور ایک لونڈیوں سے رابطه، متعه کا اس آیت میں ذکر نہیں ہے اور اس حکم سےمتعے کو خارج کیا گیا ہے.
اس فرض کے جواب میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ:
اولاً: متعه اور دائمی نکاح میں کوئی ذاتی اور بنیادی فرق نہیں ہے؛ اگر چه کچھ احکام میں جزئی اختلافات ہیں.
ثانیاً: مذکوره آیت مکی آیتوں میں سے ہے، اور متعه کے جائز ہونے والی آیت مدنی آیت ہے. اور متعه کے جائز ہونےکا حکم مدینے میں نازل ہوا ہے جس پر تمام مسلمانوں کا اجماع ہے ، تو ناسخ کیلئے ضروری ہے که منسوخ کے بعد نازل ہوجائے.
ثالثاً: متعه میں بھی عورت بیوی شمار ہوجاتی ہے لہذا یہ اعتراض صحیح نہیں ہے.
2. کچھ کا کہنا ہے که متعه والی آیت میراث کی آیت سے نسخ ہو چکی ہے. فخر رازی کہتے ہے: اگر متعه سے بننی والی بیوی انسان کی بیوی شمار ہوتی ہو تو اسکو شوهر کا ورثه ملنا چاہیے، کیونکه الله تعالی فرماتا ہے: :«وَلَكُمْ نِصْفُ ما تَرَكَ أَزْواجُكُمْ»؛ تمهاری بیویوں سے جو ترکه باقی ہو اس کا آدها حصه تمهارا ہے. حالآنکه متعه سے بننی والی بیوی کیلئے ایسا حکم نہیں ہے اور اس پر تمام علماء کا اتفاق ہے{2}
اس سوال کے جواب میں ہم کہتے ہیں:
پہلی بات : میراث والی آیت متعه کی آیت سے پہلے نازل ہو چکی ہے.
دوسری بات: یہ مسئله بھی شیعه اثناعشری علماء کے درمیان اجماعی نہیں ہے، کچھ علماء ہیں جو فرماتے ہیں کہ شوهر اپنی متعه والی بیوی سے ترکہ لے سکتا ہے، مگر یہ که عقد اور صیغه میں یه شرط لگایا جائے تو اس صورت میں ترکه نہیں لے جا سکتا.{3}
تیسری بات: اعتراض کرنے والے نے نسخ اور تخصیص کے درمیان فرق کو نہیں سمجھا ہے؛ کیونکه یہ آیت متعه کے حکم کا ناسخ نہیں ہے بلکه روایات کو مدنظر رکھتے ہوئے مخصص ہے. مطلب یہ که: میراث کی آیت عام تھی جسمیں تمام زوجات شامل تهیں چاہےوه دائمی ہو یا غیر دائمی اور اس آیت نے اس عموم کو تخصیص دی ہے اور متعه والی بیوی کو اس حکم سے خارج کیا ہے.
چوتھی بات: ترکہ نہ ملنا اس بات کی دلیل نہیں که بیوی بھی نہیں ہے، جیساکہ بیوی ہونا بھی اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ ترکہ ضرور ملنا چاہیے، چنانچه دائمی نکاح میں بھی اگر بیوی اپنے شوهر کو قتل کریں تو وه اپنے شوهر سے ترکہ نہیں لے سکتی اگر چه یہ عورت اس شوهر کی بیوی تھی.

ایک فرض یہ ہے کہ روایات کے ذریعه سے متعه کی آیت منسوخ ہوچکی ہے

کچھ روایات میں یہ بات ذکر ہے که آنحضرت نے لوگوں کو متعه سے فتح خیبر یا غزوه تبوک یا کسی اور غزوه میں منع فرمایا ہے.
متعہ کا روایات کے ذریعه نسخ ہونے کے بارے میں چند نکتے پیش خدمت ہے:
1. کچھ روایات میں متعه کو صرف اور صرف اضطراری ،خاص وقت اور خاص شرائط کو مدنظر رکھتے ہوئے جائز قرار دیا ہے اور ان شرائط کے برطرفی کے حکم نسخ ہوگیا ہے.{4} اس صورت میں یہ سوال پیش آتا ہے که اضطراری حکم ، اضطراری شروط کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جاتا ہے اور یہ صرف آنحضرت صلی الله علیه و آله وسلم کے زمانے کیلئے خاص نہیں ہے. (اب بھی اگر اضطراری وقت ہو تو جائز ہونے کا حکم ہونا چاہیئے پس وه اضطرار ہے کیا؟)
2. اس کے مقابلے میں اور بھی روایات ہیں جو حضرت عمر کے خلافت کے زمانے تک متعه کو جائز قرار دیتے ہیں.اس بات کو مسلم بن حجاج نے کئی سندوں کے ساتھ حضرت جابربن عبدالله انصاری سے نقل کیا ہے.{5}
3. اگرچه نسخ والی روایات ایک واقعه کو بیان کرتی ہیں، لیکن ان روایات میں سخت اختلاف اور تعارض پایا جاتا ہے جس کی وجہ سے روایات غیر قابل اعتماد اور سست ہوجاتے ہیں.
اباحه اور نسخ، کی تاریخ میں بہت زیاده اختلافات پائے جاتے ہیں ، تاریخ نے نسخ کے اختلافات کو نیچے صورت میں ذکر کیا ہے:
الف: فتح مکہ کے سال
ب: فتح خیبر کے سال
ج: حجة الوداع
د: غزوه تبوک{6}
ان اقوال کا تقاضا یہ ہے که ایک حکم چند سالوں میں کئی مرتبہ آچکا ہے اور دوباره نسخ ہوا ہے. حالانکه اس طرح ایک حکم کا بار بار آنا اور دوباره نسخ ہونا دین اسلام اور حکمت اللهی کے ساتھ سازگار نہیں ہے.
4. ابن عباس سے روایت ہے :” متعه امت محمد صلی الله علیه و آله وسلم پر الله کی رحمت تھی اگر عمربن خطاب لوگوں کو متعه سے منع نہ کرتے تو بہت کم لوگوں کے علاوه کوئی به زنا کے نزدیک ہی نہ ہوتا.{7}
5. فخررازی اور اس جیسے دوسروں نے متعه کے بارے میں عمر ابن خطاب سے ایک مشهور جمله نقل کیا ہیں: که عمر کہا کرتے تهے” دومتعے پیغمبر اکرم صلی الله علیه و آله وسلم کے زمانے میں حلال تھے، لیکن میں اسے حرام قرار دیتا ہوں اور جس نے بھی انجام دیئے اسکو سزا دی جائی گی: ایک متعةالنساء اور دوسرا متعة الحج{8} صحیح مسلم میں بھی آیا ہے که ابن زبیر ہمیشہ متعہ سے نهی کرتے تھے لیکن ابن عباس نہ یہ که منع نہیں کرتے تھے بلکه اس کام پر لوگوں کو تشویق بھی کرتے تھے؛ اس مسئله کو جابر سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا سب پہلا شخص جس نے متعه کو حرام کیا عمرابن خطاب تھا{9}
پس اس روایت سے واضح ہوتا ہے (جو کہ اهل سنت نے بھی قبول کیا ہے) کہ آنحضرت صلی الله علیه و آله وسلم کے زمانے میں حتی پہلے خلیفه ابوبکر کے زمانے میں متعه کا رواج تھا اور کوئی بهی اس سے منع نہیں کرتا تھا اور یہ عمر ابن خطاب کا حکم تھا کہ جس نے لوگوں کے ذھنوں میں حرمت اور نسخ ہونے کا وهم پیدا کیا.
حالآنکه عمر ابن خطاب کا حکم ہمارے لئے حجت نہیں ہے.
6. کچھ علماء جیسا کہ امام شافعی اور انکے اصحاب اور اکثر اهل ظاهر؛حتی ایک قول کے مطابق احمد بن حنبل کا عقیده یہ ہے که سنت قرآن کو نسخ نہیں کرسکتی اگر متواتر ہی کیوں نہ ہو{10}.
7. متعه کےحلال ہونے کا حکم پیغمبر اکرم صلی الله علیه و آله وسلم کے زمانے میں ایک یقینی اور ضروری امر تھا؛ اور کوئی شخص میں اس میں اختلاف نہیں کرتا تھا، پس جب ہم اس مسئلے پر یقین رکھتے ہیں تو اس یقین سے اس وقت اپنا ہاتھ اٹھا سکتے ہیں کہ کوئی قطعی اور یقینی دلیل ہمارے پاس موجود ہو جو متعه کی حرمت کو ثابت کر سکے؛{11} ورنہ یہ بات لازم آئی گی کہ ہم ظنی دلیل کے ساتھ یقینی دلیل سے ہاتھ اٹهائے اور ایسا کرنا بھی غلط ہے. اگر شرعیت متعہ کی حرمت کا حکم دیتی تو ضروری تھا کہ آنحضرت صلی الله علیه و آله وسلم تمام صحابه کے درمیان یہ اعلان فرماتے تاکہ کوئی بھی شخص متعه کے حلال ہونے کے بعد حرمت میں شک نہ کریں حالآنکه تمام روایات میں صرف متعہ کے حرام ہونے کے بارے میں پیغمبر اکرم صلی الله علیه وآله وسلم سے ایک خبر نقل کرتے ہیں لیکن عمومی خبر یا ایک خطبه جو آنحضرت نے تمام اصحاب کو دیا ہو ، نقل نہیں کرتے .

اجماع کے ذریعہ سے متعه کا منسوخ ہونا

قاضی عیاض کہتے ہے: “متعه پر عمل کرنے کے بعد تمام علماء کا اجماع ہے که متعه کو حرام کیا گیا ہے سواے روافض کے جو حلالیت پر باقی رہنے کے قائل ہیں”{12}
نووی بھی صحیح مسلم کی شرح میں لکھتا ہے” متعہ پر عمل کرنے کے بعد تمام علماء کا اجماع ہے کہ متعہ کو حرام کیا گیا ہے سواے روافض کے (کہ جو حلال ہونے کے قائل ہیں){13}

اس دلیل کے جواب میں ہم کہہ سکتے ہیں:

پہلی بات: اگر اهل سنت کا متعه کی حرمت پر اجماع ہو تو پھر کیوں نص سے استدلال کرتے ہیں کیونکه یہ ایک واضح بات ہے که اجماع سے تب استدلال کیا جاتا ہے جب ہمارے پاس آیات اور روایات سے کوئی نص نہ ہو.
دوسری بات: واضح روایات کے مطابق پیغمبراکرم صلی الله علیه و آله وسلم کے زمانے میں ، جناب ابوبکر کے زمانے میں اور عمر کی ابتدائی خلافت میں متعه حلال تھا.
تیسری بات: اهل سنت کا یہ عقیده ہے کہ اجماع نہ تو نسخ ہوتا اور نہ ہی اجماع کے ذریعہ سے کوئی حکم نسخ ہو جاتا ہے {14} پھر اس مقام پر کس طرح اجماع ایک اس حکم کو نسخ کرتی ہے که جو کتاب اور سنت سے ثابت ہے.
چوتھی بات: یہ بات بھی واضح ہے که اگر اجماع کیلئے کوئی سند یا مدرک موجود ہو تو اس سند کی طرف رجوع کرنا چاہیئے اور اجماع کی ذاتی کوئی حیثیت نہیں. اس مسئله میں روایت موجود ہے تو بس اجماع کی یہاں کوئی حیثیث نہیں ہے.

{1} معارج(70) آیت نمبر 29 اور 31 اور جو لوگ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں ، ہاں ان کی بیویوں اور لونڈیوں کے بارے میں جن کے وه مالک ہیں انہیں کوئی ملامت نہیں . اب جو کوئی اس کے علاوه (راه) ڈھونڈے گا تو ایسے لوگ حد سے گزر جانے والے ہوں گے.
{2}تفسير فخر رازى، ج 10، ص 5.
{3} سرائر، ابن‏ادريس، ج 2، ص 624 اور انتصار، سيد مرتضى، ص 114.
{4} صحيح مسلم، ج 2، ص 1027، طبع بيروت، دار احياء التراث العربى:”قال ابن أبي عمرة إنها كانت رخصة في أول الإسلام لمن اضطر إليها كالميتة والدم ولحم الخنزير”
{5} صحيح مسلم، ج 2، ص 1023:« أبو الزبير قال سمعت جابر بن عبدالله يقول : كنا نستمتع بالقبضة من التمر والدقيق الأيام على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم وأبي بكر حتى نهى عنه عمر في شأن عمرو بن حريث»؛«عن عاصم عن أبي نضرة قال كنت عند جابر بن عبدالله فأتاه آت فقال ابن عباس وابن الزبير اختلفا في المتعتين فقال جابر : فعلناهما مع رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم نهانا عنهما عمر فلم نعد لهما».و…
{6} نقض الوشيعة، سيد محسن امين عاملى، ص 298 و 303.
{7} النهايه، ابن اثير، ج 2، ص 488: “وفي حديث ابن عباس: ما كانت المُتْعة إّلا رَحْمةً رحِمَ اللّهُ بها أُمَّة محمد صلى اللّه عليه وسلم لَوْلا نهيهُ عنها ما احتاج إلى الزِناءِ إلاَّ شَقی”
{8} تفسير فخر رازى، ج 10، ص 52؛التمهید، ابن عبد البر، ج33،ص365:” حدثنا مكي بن إبراهيم حدثنا مالك بن أنس عن نافع عن ابن عمر قال قال عمر متعتان كانتا على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم أنا أنهى عنهما وأعاقب عليهما متعة النساء ومتعة الحج”
{9} إرشاد الساري: ج4، ص 169.
{10} المستصفى، غزالى، ج 1، ص124:«ذلك ممتنع بعد وفاته بدليل الإجماع من الصحابة على أن القرآن والمتواتر المعلوم لا يرفع بخبر الواحد فلا ذاهب إلى تجويزه من السلف والخلف والعمل بخبر الواحد تلقى من الصحابة وذلك فيما لا يرفع قاطعا بل ذهب الخوارج إلى منع نسخ القرآن بالخبر المتواتر حتى أنهم قالوا رجم ماعز وإن كان متواترا لا يصلح لنسخ القرآن وقال الشافعي رحمه الله لا يجوز نسخ القرآن بالسنة وإن تواترت…»؛ الاحكام، آمدى، ج 3، ص ” المسألة العاشرة: قطع الشافعي وأكثر أصحابه وأكثر أهل الظاهر بامتناع نسخ الكتاب بالسنة المتواترة، وإليه ذهب أحمد بن حنبل في إحدى الروايتين عنه”
{11} جیساکه اصول الفقه کے قواعد میں سے ایک قاعده یہ ہے که : لاتنقض اليقين بالشک بل انقضه بيقين آخر
{12} فتح‏البارى، ج 9، ص 150.
{13} شرح نووى، صحيح مسلم پر، ج 9، ص 180.
{14} البناية في شرح الهداية، عينى، ج 4، ص 100.

منبع: موسسه مذاهب اسلامی

Fikr bildirish

Email manzilingiz chop etilmaydi. Majburiy bandlar * bilan belgilangan

*

code